مہاراشٹر کی علاقائی سیاسی جماعت کے سربراہ بال ٹھاکرے نے ٹینس سٹار ثانیہ مرزا کی پاکستانی کرکٹر شعیب ملک کے
اتھ شادی کی خبروں پر سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
اپنے ترجمان اخبار ’سامنا‘ کےاداریے میں انہوں نے ثانیہ پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ’اگر ثانیہ سچی ہندستانی ہوتیں تو ان کا دل کسی پاکستانی کے لیے کبھی نہیں دھڑکتا۔‘اپنے طویل اداریے میں ٹھاکرے نے ثانیہ پر تنقید کی بوچھاڑ کر دی۔ اُن کے مطابق ثانیہ کو اگر ہندستان کے لیے ہی کھیلنے کی خواہش ہوتی تو وہ کسی ہندستانی پارٹنر کا ہی انتخاب کرتیں۔
ثانیہ کے کھیل پر بھی ٹھاکرے نے تنقید کی اور کہا کہ ٹینس کورٹ پر اُن کے کھیل سے زیادہ وہ اپنے چھوٹے کپڑوں اور فیشن کے لیے مشہور رہیں۔
اپنے اداریے میں انہوں نے شعیب ملک کو بھی اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور لکھا ’ ہم نے سنا ہے کہ شعیب کے ہندستان میں کئی افیئرز ہوئے اور انہوں نے کئی لڑکیوں سے شادی کا وعدہ بھی کیا۔‘
ٹھاکرے نے حیدرآباد کی رہنےوالی عائشہ صدیقی کا حوالہ بھی دیا ہے جن کے بارے میں اُن کے گھر والوں کا دعویٰ ہے کہ شعیب کی اُن سے ’شادی ہو چکی‘ ہے۔
ٹھاکرے کے مطابق ہندستانی لڑکیوں کی پاکستانیوں کے ساتھ شادیاں زیادہ دن نہیں ٹک سکتیں۔ انہوں نے رینا رائے کی مثال دی کہ کس طرح اس سے پہلے بالی وڈ اداکارہ رینا رائے کی پاکستانی کرکٹر محسن خان سے شادی ہوئی تھی لیکن وہ ناکام ہوئی اور وہ وہاں سے دوبارہ ہندستان چلی آئیں۔ ٹھاکرے نے آشا پاٹل کی مثال دی جو اپنے شوہر کی وفات کے بعد بُری حالت میں ممبئی واپس آئی تھیں۔
شعیب ملک کے ساتھ ثانیہ مرزا کی شادی کی خبر سے بعض سخت گیر تنظمیں ناراض ہیں
ٹھاکرے نے اداریے میں ثانیہ کے والد کے یہ کہنے پر کہ وہ ہندستان کے لیے کھیلیں گی کہا کہ وہ پاکستان اپنے سسرال جا کر وہاں کی شہری ہو جائیں گی تو وہ کیسے ہندستان کے لیے کھیل سکتی ہیں۔ یہاں کا قانون کیا کوئی مذاق ہے؟ شادی کے لیے پاکستان اور پیسے، شہرت اور مرتبے کے لیے ہندستان، یہ نہیں چلے گا؟ اگر وہ سچی ہندستانی ہوتیں تو ان کا دل کسی پاکستانی کے لیے کبھی نہیں دھڑکتا؟'
خیال رہے کہ ثانیہ مرزا اور شعیب ملک کی شادی کی خبروں کے ساتھ ہی ہندستان کی چند سخت گیر ہندو موقف والی تنظیموں نے اعتراض شروع کر دیا ہے۔
مہاراشٹر میں شیوسینا اگر مخالفت پر اتری ہے تو سری رام سینا نامی شدت پسند تنظیم نے اب ثانیہ کےخلاف مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔
No comments:
Post a Comment